سوویت یونین نے انیس سو ستاون میں سپٹنک نامی پہلا سیٹلائیٹ خلا میں بھیجا۔ تب سے اب تک تقریباً چھ ہزار سیٹلائٹ خلا میں بھیجے گئے ہیں۔ سیٹلائیٹ بہت اہمیت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان سے ہمیں زمین کی ماحولیاتی تبدیلی، تحفظ، ذرائع ابلاغ، سمت کے تعین کرنے کے علم اور خاص کر زمین کو مختلف تناظر سے جاننے میں مدد ملتی ہے۔
یہاں آپ دیکھیں کہ انہیں کون کون اور کتنا استعمال کر رہا ہے۔
اب تک مدار میں گھومنے والے نو سو ستاون سیٹلائیٹس میں سے چار سو تیئیس امریکہ نےبھیجے ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر روس ہے۔ چین نے بھی خلا میں ایک نمایاں جگہ بنا رکھی ہے۔ یہ تمام سیٹلائیٹ تقریباً ایک سو پندرہ ممالک کی ملکیت ہیں۔ اس گراف میں دیکھ سکتے ہیں کہ کون سا ملک خلا میں اپنی کتنی ملکیت رکھتا ہے۔
خلا میں ایسے سیٹلائیٹ بھی موجود ہیں جو دو یا دو سے زیادہ ممالک نے مل کر بھیجے ہیں۔ ایسے ممالک کی تعداد چوالیس ہے۔ ان ممالک کو اس گراف میں اشتراک کے نام سے دکھایا گیا ہے۔ امریکہ، تائیوان، جاپان اور فرانس اس اشتراک کے بڑے حصہ دار ہیں۔
ملٹی نیشنل سیٹلائیٹ کے منصوبوں میں ایسے تین یا ان سے زائد ممالک شامل ہیں، جو آپس میں مشترکہ تعاون کرتے ہیں۔

0 comments:

Post a Comment

 
Blogger TemplateNCC-A-S © 2013. All Rights Reserved. Powered by Blogger
Top